:Hifz-e-Quran Academy:Learn Online Quran

اسلام کا کیا مطلب ہے

اسلام کا کیا مطلب ہے؎1؟

اسلام کا مطب ہے اللہ اور پیارے رسول حضرت محمدﷺ کے ہر حکم کی تعمیل اور بجاآوری کرنا ہم تک یہ احکامات قرآن مجید اور احادیث مبارکہ اور صحابہ کرامؔ کے ذریعے پہنچے ہیں – اسلام کے بنیادی احکامات کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے – حضوراکرمﷺ نے فرمایا! (طلب العم فریضتہ علی کل مسلم) (مسند ابن ماجہ) ترجمہ:علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض یےـ اور جو چیز دین میں فرض کی حیثیت رکھتی ہے اس کا کرنا عبادت اور باعث ثواب ہے اور اس کا نہ کرنا بے حد گناہ ہےـ لہذا ہم سب کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم خود بھی دین کا علم حاصل کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں اور سیکھنے کی ترغیب دیں

دین کی اہم اصطلاحات؎2-

فرض

فرض وہ کام ہیں جن کو بغیر کسی عذر یعنی شرعی وجہ کے چھوڑانہیں جاسکتا -ایسے کاموں کو مثلاؔ فرض نمازبغیر کسی عذر کے چھوڑنے والا عذاب کامستحق ہوتاہے اور فاسق کہلاتا ہے -فرض کا انکار کرنے والا کافر ہے-

واجب

واجب وہ کام ہیں جن کو بغیر کسی عذر یعنی شرعی وجہ کے چھوڑانہیں جاسکتا -ایسے کاموں کو مثلاؔ نمازوتربغیر کسی عذر کے چھوڑنے والا عذاب کامستحق ہوتاہے واجب کا انکار کرنے والافاسق ہے کافر نہیں ہے

سنت

سنت وہ کام جو نبیﷺ یا صحابہَ نے کیا ہو اس کی دو قسمیں ہیں سنت موٰکدہ جس کے کرنے کی تاکید ہے اور بلا عذر چھوڑنے والا اور عادت بنا نے والا گنہگار اور فاسق ہے دوسری قسم سنت غیر مئوکدہ جس کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر گناہ نہیں

مستحب

مستحب وہ کام ہیں جن کے کرنے پر ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے-اس کو نفل بہی کہتے ہیں

مکروہ

-مکروہ کاموں کی بھی دوقسمیں ہی ایک مکروہ تنزیہی جن کے نہ کرنے میں ثواب اورکرنےمیں گناہ نہیں- -دوسرے مکروہ تحریمی جن کا بلا عذر کرنے والا گنہگار اور فاسق ہے

حرام

حرام کام وہ ہیں جن کا کرنے والا فاسق اور سخت عذاب کا مستحق ہے اور حرام کاموں کو حرام نہ ماننے والا کافر ہے

3؎اسلام کے بنیادی عقائد

ایمانِ مُفَصَّل عربی:

اٰمَنْتُ بِاﷲِ وَمَلَائِکَتِه وَ کُتُبِه وَ رُسُلِه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَيْرِه وَ شَرِّه مِنَ اﷲِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْت.

ایک مسلمان کو سچا مسلمان بننے کیلئے مندرجہ ذیل پانچ عقائد کا زبان سے اقرار کرنا اور دل سے یقین رکھنا بنیادی شرط ہے –

      • 1-اللہ تعالٰی پر ایمان
      • ؎2 فرشتوں یا ملائکہ پر ایمان
      • -3اللہ تعالٰی کی بھیجی ہوئی کتابوں پر ایمان
      • -4 تمام انبیاء اور رسولوں پر ایمان
      • -5ہوم اخرت یا یوم حساب پر ایمان-
      • -6 اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان
      • -7 موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان

؎4 اسلام کے ارکان

اسلام کی عمارت کی بنیاد پانچ ستونوں پر رکھی گئی ہے – ایک مسلمان کو سچا مسلمان ہونے کیلئے مندرجہ ذیل ارکان کا ماننا اور ان پر کاربند ہونا لازمی ہے

کلمہ طیبہ-1
نماز-2
زکوٰۃ-3
روزہ-4
حج-5

کلمہ طیبہ-1:

لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ؕ ترجمہ :اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ کلمہ طیبہ- کے دو جزو ہیں ؎توحید یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا صرف اسی کی عبادت کرنا دوسرا جز رسالت یعنی نبی پاکﷺ کو اللہ کا رسول ماننا اور ان کی سنت کی پیروی کرنا

2-نماز:

اللہ پاک نے دن رات میں مسلمانوں پر 5نمازیں فرض کی ہیں -نماز مسلمانوں کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ ان کے دل میں خوف خدا پیدا کرتی ہے۔ حضوراکرمﷺ ارشاد فرمایا۔۔۔ (صحیح مسلم) بندہ کے اسلام اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے کا ہی فاصلہ ہے

3… زکوٰۃ

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے جو مالدار مسلمان اپنے مال پر سال گزر جانے کے بعد اڑھائی فیصد غریبوں اور مسکینوں پر یا دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کرتا ہے جو اللہ اور رسول ﷺ نے مقرر کیے ہیں

4…روزہ :

روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے اسلام میں رمضان کے روزے فرض ہیں اس میں مسلمان کھانے پہنے اور نفسانی خواہسات سے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے وقت میں رک جاتا ہے۔ روزہ آگ سے بچانے والی ایک ڈھال ہے اور روزہ دار کے ثواب کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا:روزہ میرےلیے ہے اور میں خود اس کا ثواب دوںگا (یعنی بے پناہ ثواب جس کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئ ) قرآن مجید کا نزول رمضان المبارک میں ہوا۔

حج5

حج صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے

وضو کا بیان؎5

وضو کرنے کا طریقہ:

وضوکرنے والے کو چاہیے کہ وضوکرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرکے کسی اونچی جگہ پر بیٹھیے کہ چھینٹیں اڑکر اورپر نہ پڑیں- وضوشروع کرتے وقت بسم اللہ کہے اور سب سے پہلے گٹوں تک ہاتھ دھوئے پھر تین دفعہ کلی کرے اور مسواک کرے- اگر مسواک نہ ہو تو کسی موٹے کپڑے یا انگلی سے اپنے دانت صاف کرلے کہ سب میل کچیل جاتا رہے – اگر روزہ دار نہ ہوتو غرارہ کرکے اچھی طرح سارے منہ میں پانی پہنچائے اور اگر روزہ ہوتو غرارہ نہ کرے کہ شاید کچھ پانی حلق میں چلا جائے ۔پھر تین بار ناک میں پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے – جس کا ورزہ ہو وہ جتنی دور تک نرم حصہ ہے اس سے اوپر پانی نہ لے جائے۔ پھر تین دفعہ منہ دھوئے۔ سر کے بالوں سے لے کر تھوڑی کے نیچے تک ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک سب جگہ پانی بہہ جائے- دونوں ابروؤں کے نیچے بھی پانی پہنچ جائے کہیں سوکھا نہ رہے – پھر تین بار داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئے پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت دھوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر ٖخلال کرے – انگوٹھی ، چھلا،، گھڑی ، چوڑی جو کچھ ہاتھ میں پہنا ہو ہلالے کہیں سوکھا نہ رہ جائے- پھر ایک مرتبہ سارے سر کا مسح کرے پھردونوکانوں کا مسح کرے- اندر کی طرف کا شہادت کی انگلی سے اور کان کے اوپر کا انگوٹھوں سے مسح کرےپھر انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے- پھر تین بار داہنا پاؤں ٹخنے سمیت دھوئے- پھر بایاں پاؤں ٹخنے سمیت دھوئے اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے- -پیرکی داہنی انگلوں سے شروع کرے اور بائیں انگلیوں پر ختم کرے-

وضوکے فرائض:

    • 1-چہرہ دھونا
    • 2-ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
    • 3-سرکا مسح کرنا
    • 4-پاؤںٹخنوں سمیت دھونا

وضو کی سنتیں

    • 1-نیت کرنا
    • 2-بسم اللہ کہنا
    • 3-ہاتھ گٹوؐ تک دھونا
    • 4-کلی کرنا
    • 5-ناک میں پانی ڈالنا
    • 6-مسواک کرنا
    • 7-سارے سر کا مسح کرنا
    • 8-ہر عضو کو تین مرتبہ دھونا
    • 9-کانوؐ کا مسح کرنا
    • 10-ہاتھ اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنا ،داڑھی کا خلال کرنا
    • 11-ترتیب سے وضو کرنا(پےدر پے دھونا یعنی ایک عضو خشک نہ ہونے پائے کہ دوسرا دھولیں )

وضو کے مکروہات

مکروہ چیزیں وہ ہوتی ہیں جو شریعت میں ناپسند ہیں جن سے ثواب میں کمی آ جاتی ہے اور کچھ جگہوں پر تو عبادت اسکی وجہ سے ناقص یا ادھوری رہ جاتی ہے اور انکا کرنے والا گناہ گار ہو جاتا ہے انکا بہت دھیان رکھنا چاہئیے۔ ہر سنت کا چھوڑنا مکروہ ہے ایسے ہی ہر مکروہ کا چھوڑنا سنت ہے۔

    •  
    • (۱) پانی میں اسراف کرنا یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا۔
    • (۲) اس قدر پانی خرچ کرنے میں کمی کرنا کہ جس کی وجہ سے اعضاء وضو کے دھلنے میں نقصان رہ جائے۔
    • (۳) حالت وضو یعنی وضوء کرتے ہوئے دنیاوی باتیں کرنا۔
    • (۴) دیگر اعضاء کا بغیر کسی ضرورت کے وضو میں دھونا۔
    • (۵) منھ ودیگر اعضاء پر زور سے چھنیٹیں مارنا۔
    • (۶) تین بار سے زیادہ اعضائے وضو کو دھونا۔
    • (۷) نئے پانی سے تین بار مسح کرنا۔

وضو توڑنے والی چیزیں:

    • پیشاب یا پاخانہ کا آنا
    • پیپ اور خون کا نکل کر بہہ جانا
    • ہوا کا خارج ہونا
    • قے آنا
    • نشہ کرنا
    • بے ہوش ہونا
    • نماز کے دوران قہقہ لگا کر ہنسنا
    • بیماری کی وجہ سے آنکھ سے خون کا باہر نکلنا
    • ٹیک لگا کرسونا

وضو سے فارغ ہو کر پڑھنے والی دعائیں:

وضو کو شروع کرنے سے پہلے کی دعاء

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ

وضو کے بعد کی دعاء

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ

مسواک کا بیان:

وضو کرتے وقت مسواک کرنا سنت ہے

مسواک کلی کرنے سے پہلے کرتے ہیں

مسواک دہنا ہاتھ سے کریں

غسل کا بیان؎6-

غسل کا مسنون طریقہ:

غسل چاہے فرض ہو یا سنت و مستحب ہر صورت میں اس کا مسنو ن طریقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھ کلائی تک تین مرتبہ دھوئے ۔ پھر بدن پر یا کسی جگہ نجاست لگی ہو تو اس کو تین مرتبہ پاک کرے ۔ پھر چھوٹا اور بڑا دونوں استنجا کرے (خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو) اس کے بعد مسنو ن طریقہ پر وضو کرے اگر نہانے کا پانی قدموں میں جمع ہوتا ہے تو پیروں کو نہ دھوئے یہاں سے علیحدہ ہونے کے بعد دھوئے اور اگر کسی چوکی یا پتھر یا ایسی جگہ غسل کررہا ہے کہ وہاں غسل کا پانی جمع نہیں ہو رہا تو اسی وقت پیروں کو دھو لینا جائز ہے ۔ اب پہلے سر پر پانی ڈالے پھر دائیں کندھے پر اور پھر بائیں کندھیں پر ( اور اتنا پانی ڈالے کہ سر سے پاؤں تک پہنچ جائے ) اور بد ن کو ہاتھوں سے ملے ۔ یہ ایک مرتبہ ہو ا پھر دوبارہ اسی طرح پانی ڈالے کہ پہلے سر پر پھر دائیں کندھے پر اور پھر بائیں کندھے پر (جہاں بدن کے خشک رہنے کا اندیشہ ہو وہاں ہاتھ سے مل کر پانی بہانے کی کو شش کرے)پھر اسی طرح تیسری مرتبہ سر سے پاؤں تک پانی بہائے ۔(درمختار)

غسل کے فرائض:

    • 1. اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے
    • 2. ناک کے اندر پانی پہنچانا جہاں تک ناک کا نرم حصہ ہے
    • 3.سارے بدن پر ایک مرتبہ پانی بہانا (ہدایا)

غسل کی سنتیں

    • 1.غسل کی نیت کرنا
    • 2.تین مرتبہ دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا
    • 3. استنجا کرنا اور جس جگہ بدن پر نجاست لگی ہو اسے دھونا
    • 4. پہلے سنت کے مطابق وضو کرلینا
    • 5. تمام بدن پر تین بار پانی بہانا۔

غسل کے مکروہات:

    • 1.ننگے ہو کر قبلہ رخ ہونا
    • 2.ننگے ہو کر بلا ضرورت بات کرنا
    • 3.پانی کے استعمال میں بے جازیادتی کرنا
    • 4.مسنون طریقہ کے خلاف غسل کرنا

تیمم کا بیان؎7

تیمم کسے کہتے ہیں؟

مٹی یا مٹی کے حکم میں جو چیزیں آتی ہیں ان سے پاک ہونے کو تیمم کہتے ہیں ،جیسے ریت ،پتھر ، چونا، سرمہ وغیرہ اور جو چیز مٹی کی قسم سے نہ ہو اس سے تیمم درست نہیں جیسے سونا، چاندی ، گہیوں، لکڑی ، کپڑا، اناج وغیرہ البتہ ان چیزوں پر گرد اور مٹی لگی ہو اس وقت ان پر تیمم درست ہے- ۔اور جو چیز آگ میں نہ جلے نہ گلے وہ چیز مٹی کی قسم سے ہے اس پر تیمم درست ہے اور جو چیز جل کر راکھ ہوجائے ہا گل جائے اس پر تیمم درست نہیں- مٹی کے گھڑے وغیرہ پر تیمم درست ہے چاہے اس میں پانی بھراہو یا نہ ہو لیکن اگر اس پر روغن پھرا ہو تو تیمم درست نہیں ہے۔ پکی اینٹ پر بھی تیمم درست ہے

تیمم کب کرنا جائز ہے

    • 1-کم از کم ایک میل دور تک پانی کا نہ ہونا
    • 2-پانی تو موجود ہے لیکن اگر وضو کرلیا تو پینے کے لئے نہیں بچے کا۔
    • 3- پانی تو موجود ہے لیکن پانی کے پاس درند ہ یا دشمن ہے
    • 4-بیمار ہوجانے یا مرض کے بڑھ جانے کا خوف ہے

تیمم کا طریقہ:

جب آدمی تیمم کرنے کا ارادہ کرے تواول نیت کرے کہ میں ناپاکی دور کرنے اورنماز پڑھنے کے لیے تیمم کرتا ہوں پھر دونوں ہاتھ پاک مٹی پر مار کر انھیں جھاڑ دے زیادہ مٹی لگ جائے تو منھ سے پھونک دے اور دونوں ہاتھوں کو منھ پر اس طرح پھیرے کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے ایک بال برابر جگہ چھوٹ جائے گی تو تیمم جائز نہ ہوگا پھر دوسری مرتبہ ہاتھ مٹی پر مارے اورانھیں جھاڑ کر پہلے بائیں ہاتھ کی چارانگلیاں سیدھے ہاتھ کی انگلیوں کے سروں کے نیچے رکھ کر کھینچتے ہوئے کہنی تک لے جائے پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سیدھے ہاتھ کے اوپر کی طرف کہنی سے انگلیوں کی طرف کھینچتے ہوئے لائے اوربائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے اندر کی جانب کو سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت پر پھیرے پھراسی طرح سیدھے ہاتھ کو بائیں پیر پر پھیرے پھر انگلیوں کا خلال کرے اورمرد کے لیے داڑھی کا خلال کرنا بھی مسنون ہے۔

) تیمم کے صحیح ہونے کے نو شرائط ہیں۔

(۱) مسلمان ہونا۔ (۲) نیت کرنا۔ (۳) ہاتھ پھیرنا۔ (۴) تین یا اس سے زیادہ انگلیوں سے پھیرنا۔ (۵) تیم ایسی چیز سے کرنا جو زمین کی جنس سے ہو۔ (۶) مذکورہ اشیاء کا مطہر (پاک کرنے والا ہونا)۔ (۷) پانی کا مفقود ہونا۔ (۸) حیض، نفاس اورحدیث سے خالی وقت میں تیمم کرنا۔ (۹) اعضاء تیمم پر ایسی چیز کا نہ پایا جانا جو چمڑے تک مسح کرنے سے مانع ہو جیسے چربی وغیرہ ۔ وتفصیلہ فی الشامی:۱/۳۹۳

تیمم کی آٹھ سُنتیں ہیں۔

(1) دونوں ہتھیلیوں کو پاک مٹی پر مارنا۔ (2) دونوں ہتھیلیوں کو مٹی پر مار کر اپنی طرف کھنچنا۔ (3) اس کے بعد ہتھیلیوں کو ذرا پیچھے ہٹانا۔ (4) دونوں ہاتھوں کو جھاڑنا۔ (5) بسم اللہ کہنا۔ (6) مٹی پر ہاتھ مارتے وقت اُنگلیوں کو کشادہ رکھنا۔ (7) ترتیب کو ملحوظ رکھنا یعنی پہلے پورے منہ پر دونوں ہاتھوں کا پھیرنا اور پھر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ہاتھ پھیرنا۔ (8) پے دَر پے مسح کرنا۔ درمیان میں توقف نہ کرنا۔

8؎نجاست کا بیان

ناپاک چیز کو نجاست کہتے ہیں جیسے پیشاب ، پاخانہ وغیرہ

نجاست دور کرنے کا طریقہ:

1- کپڑے سے نجاست دور کرنے کے بعد ایک مرتبہ پانی میں ڈال کر نچوڑیں پھر دوسری مرتبہ پھر تیسری مرتبہ ؎

2- یا اتنے کھلے بہتے پانی میں دھوئیں کہ آپ کا دل مطمئن ہو جائے-

3- بر تن پر اگر نجاست ہو تو نجاست دور کرنے کے بعد بر تن کو اّلٹا کر کے رکھیں تاکہ پانی نکل جائے۔ پھر دوبارہ اسی طرح خشک ہونے پر تیسری مرتبہ اسی طرح دھوکر رکھیں پھر برتن پاک ہے۔

مسائل :

1- دودھ پانی وغیرہ یا کوئی بھی ایسی چیز جو لیکوڈ(مائع)ہو اس میں نجاست گر جائے تو وہ سارا ناپاک ہے-

2- مرغی ، بطخ، مرغابی کے سوا اور حلال پرندوں کی بیٹ پاک ہے جیسے کبوتر، چڑیا وغیرہ-

3- مکھی ، کھٹمل ، مچھر وغیرہ کا خون ناپاک نہیں ہے-

4- پانی اور پانی کی طرح جو چیز پتلی ہو اور پاک ہو اس سے نجاست کا دھونا درست ہے جیسے عرق گلاب ، تربوزکا پانی، سرکہ وغیرہ جن سے کپڑا بھگو کر نچوڑیں نچڑجائے-

5- جس چیز میں چکنائی ہو اور جو نچڑنہ سکے جیسے گھی ، تیل ، دودھ وغیرہ اس سے دھونا درست نہیں اس کے استعمال کے بعد وہ چیز ناپاک رہے گی-